At-Tawba • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ ﴾
“The hypocrites, both men and women. are all of a kind: they enjoin the doing of what is wrong and forbid the doing of what is right and withhold their hands [from doing good]. They are oblivious of God, and so He is oblivious of them. Verily, the hypocrites-it is they, they who are truly iniquitously”
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں۔ مومن سخی ہوتے ہیں منافق بخیل ہوتے ہیں۔ مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں۔ منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ تم ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہوگئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لئے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ وہاں کا عذاب انہیں بس ہوگا۔ انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کرچکا ہے اور ان کے لئے اس نے دائمی اور مستقل عذاب رکھے ہیں۔