At-Tawba • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ ﴾
“[Say unto them: "You are] like those [hypocrites] who lived before your time. Greater than you were they in power, and richer in wealth and in children; and they enjoyed their share [of happiness]. And you have been enjoying your share -just as those who preceded you enjoyed their share; and you have been indulging in scurrilous talk -just as they indulged in it. It is they whose works have come to nought in this world and in the life to come - and it is they, they who are the cost!"”
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے۔ خلاق سے مراد یہاں دین ہے۔ جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔ انکے یہ فاسد اعمال اکارت ہوگئے۔ نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہیں۔ یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ ابن عباس فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آگئی میرا تو خیال ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم ان کی پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ جانور کے سوراخ میں داخل ہوا ہے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے لوگوں نے پوچھا اس سے مراد آپ کی کون لوگ ہیں ؟ کیا اہل کتاب ؟ آپ نے فرمایا اور کون ؟ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو (كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً) 9۔ التوبہ :69) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں خلاق سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے۔ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کیطرح ؟ آپ نے فرمایا اور لوگ ہی ہیں کون ؟ اس حدیث کے مفہوم پر شاہد صحیح احادیث میں بھی ہیں۔