WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 95 من سورة سُورَةُ التَّوۡبَةِ

At-Tawba • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴾

“When you will have returned to them, (O believers,] they will swear to you by God, [repeating their excuses,] with a view to your letting them be. Let them be, then: behold, they are loathsome, and hell is their goal in recompense for what they were wont to do.”

📝 التفسير:

فاسق اور چوہے کی مماثلت اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک کھائیں گے۔ تم انہیں منہ بھی نہ لگانا۔ ان کے اعتقاد نجس ہیں ان کا باطن باطل ہے۔ آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے۔ سن ان کی خواہش صرف تمہیں رضامند کرنا ہے اور بالفرض تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ۔ تو بھی اللہ تعالیٰ ان بدکاروں سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ یہ اللہ و رسول کی اطاعت سے باہر ہیں۔ شریعت سے خارج ہے۔ چوہا چونکہ بل سے بگاڑ کرنے کے لئے نکلتا ہے اس لئے عرب اسے فویسقہ کہتے ہیں۔ اسی طرح خوشے سے جب تری ظاہر ہوتی ہے تو کہتے ہیں فسقت الرطبۃ پس یہ چونکہ اللہ و رسول کی اطاعت سے نکل جاتے ہیں اس لئے انہیں فاسق کہتے ہیں۔