WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 18 من سورة سُورَةُ يُونُسَ

Yunus • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴾

“and [neither will] they [who] worship, side by side with God, things or beings that can neither harm nor benefit them, saying [to themselves], "These are our intercessors with God!" Say: "Do you [think that you could] inform God of anything in the heavens or on earth that He does not know? Limitless is He in His glory, and sublimely exalted above anything to which men may ascribe a share in His divinity!"”

📝 التفسير:

آیت 18 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط ”اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔“اس سے مشرکین مکہ کا بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے۔ وہ اپنے بتوں کو کائنات کا خالق ومالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث اس کے ہاں ہماری سفارش کریں گی۔قُلْ اَتُنَبِّءُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لاَ یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟“کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دینا چاہتے ہو جس کا اس کو خود پتا نہیں ؟ یہ وہی بات ہے جو آیۃ الکرسی کی تشریح کے ضمن میں بیان ہوچکی ہے کہ ایسی کسی شفاعت کا آخر جواز کیا ہوگا ؟ اللہ تو غائب اور حاضر سب کچھ جاننے والا ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ الاَّ بِمَاشَآءَ ج۔ تو پھر آخر کوئی سفارشی اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہے گا ؟ کس بنیاد پر وہ کسی کی سفارش کرے گا ؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ اے اللہ ! تو اس آدمی کو ٹھیک سے نہیں جانتا ‘ میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں ‘ یہ بہت اچھا اور نیک آدمی ہے ! تو کیا وہ اللہ کو وہ کچھ بتانا چاہے گا معاذ اللہ جس کو وہ خود نہیں جانتا ؟سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔“