🕋 تفسير سورة العاديات
(Al-Adiyat) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
📘 آیت 8{ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“ عربی لغت کے مطابق چیونٹی کے انڈے سے نکلنے والے بچے کو ”ذرّہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی بہت چھوٹی اور حقیر چیز۔ اسی مفہوم میں لفظ ”ذرّہ“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ یہ آیت انسان کو اس اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی بہرحال اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے ‘ اور چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے۔ بسا اوقات انسان نیکی کے چھوٹے سے کام کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے ‘ اور بعض اوقات صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا۔ یہ درست طرزعمل نہیں ہے۔ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے اور کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر اس پر جری نہیں ہونا چاہیے۔
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ
📘 آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔
إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ
📘 آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
📘 آیت 2{ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ } ”پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔“ جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔
فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا
📘 آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔
فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا
📘 آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا
📘 آیت 5{ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ } ”پھر اس کے ساتھ وہ دشمن کی جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔“ پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت موثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف ! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چناچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے کردارکا ذکر یوں کیا گیا ہے :
إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ
📘 آیت 6{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ۔ } ”یقیناانسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔“ مطلب یہ کہ ایک طرف وہ جانور ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ‘ جو اس کا خالق نہیں ہے ‘ بلکہ صرف اس کے دانے پانی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور دوسری طرف یہ باشعور ‘ صاحب عقل و دانش اشرف المخلوقات انسان ہے جو اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہیں کرتا۔
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
📘 آیت 7{ وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیْدٌ۔ } ”اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔“ وہ اپنے اس طرزعمل سے خوب واقف ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ انسان اپنے خیالات ‘ جذبات اور کردار کے بارے میں خود سب کچھ جانتا ہے۔ چناچہ انسان خوب جانتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنے رب کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
📘 آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔
۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
📘 آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔