WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 100 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَآئِمٌۭ وَحَصِيدٌۭ ﴾

“THIS ACCOUNT of the [fate of those ancient] communities - some of them still remaining, and some [extinct like] a field mown-down - We convey unto thee [as a lesson for mankind]:”

📝 التفسير:

آیت 100 ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌحَصِیْدٌ کا لفظ اس کھیت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ فصل کے کٹنے کے بعد کھیت میں جو ویرانی کا منظر ہوتا ہے اس کے ساتھ عذاب استیصال سے تباہ شدہ بستیوں کو تشبیہہ دی گئی ہے۔ پھر ان بستیوں میں کچھ تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کے آثار کو باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً قوم عاد کی آبادیوں کا کوئی نشان تک نہیں ملتا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قوم کہاں آبادتھی اگرچہ حال ہی میں سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے شہر اور شداد کی جنت کے کچھ آثار زیر زمین ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف قوم ثمود کے مکانات کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں۔