Hud • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ ﴾
“Never can they elude [their final reckoning, even if they remain unscathed] on earth: never will they find anyone who could protect them from God. [In the life to come] double suffering will be imposed on them for having lost the ability to hear [the truth] and having failed to see [it].”
آیت 20 اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ یہ لوگ اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز شکست نہیں دے سکتے۔مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ وہ بالکل اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ حق کے لیے ان لوگوں کے اسی رویہ کی وجہ سے ان کا عذاب بڑھایا جاتا رہے گا۔