WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 46 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْرُ صَٰلِحٍۢ ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۖ إِنِّىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ ﴾

“[God] answered: "O Noah, behold, he was not of thy family, for, verily, he was unrighteous in his conduct. And thou shalt not ask of Me anything whereof thou canst not have any knowledge: thus, behold, do I admonish thee lest thou become one of those who are unaware [of what is right]."”

📝 التفسير:

آیت 46 قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت 35 میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں۔