WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 56 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ﴾

“Behold, I have placed my trust in God, [who is] my Sustainer as well as your Sustainer: for there is no living creature which He does not hold by its forelock. Verily, straight is my Sustainer's way!”

📝 التفسير:

مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔