Hud • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ ﴾
“And so, when Our judgment came to pass, by Our grace We saved Shu'ayb and those who shared his faith, whereas the blast [of Our punishment] overtook those who had been bent on evildoing: and then they lay lifeless, in their very homes, on the ground,”
آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌتم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !