WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 16 من سورة سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Ibrahim • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ ﴾

“with hell awaiting him; and he shall be made to drink of the water of most bitter distress,”

📝 التفسير:

آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ ان کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا جبکہ آخرت کی بڑی سزا اس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشان عبرت بنے گا :