WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ الحِجۡرِ

Al-Hijr • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ ﴾

“[Iblis] replied: "It is not for me to prostrate myself before mortal man whom Thou hast created out of sounding clay, out of dark slime transmuted!"”

📝 التفسير:

آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔