An-Nahl • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ﴾
“As for anyone who denies God after having once attained to faith-and this, to be sure, does not apply to one who does it under duress, the while his heart remains true to his faith, but [only, to] him who willingly opens up his heart to a denial of the truth-: upon all such [falls] God's condemnation, and tremendous suffering awaits them:”
آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔