Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًۭا ﴾
“Answered [Moses]: "Thou knowest well that none but the Sustainer of the heavens and the earth has bestowed these [miraculous signs] from on high, as a means of insight [for thee]; and, verily, O Pharaoh, [since thou hast chosen to reject them;] I think that thou art utterly lost!"”
وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًاایک تو حضرت موسیٰ کا مزاج جلالی تھا دوسرے آپ بچپن سے اس فرعون کے ساتھ پلے بڑھے تھے ‘ اس طرح اس کی حیثیت آپ کے چھوٹے بھائی کی سی تھی۔ چناچہ آپ نے بڑے با رعب انداز میں بلا جھجک جواب دیا کہ تمہیں تو مجھ پر جادو کے اثر کا گمان ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ تو رب کائنات کی بصیرت افروز واضح نشانیوں کو جھٹلا کر اپنی ہلاکت اور بربادی کو یقینی بنا چکا ہے۔