WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 15 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ مَّنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًۭا ﴾

“Whoever chooses to follow the right path, follows it but for his own good; and whoever goes astray, goes but astray to his own hurt; and no bearer of burdens shall be made to bear another" burden. Moreover. We would never chastise [any community for the wrong they may do] ere We have sent an apostle [to them].”

📝 التفسير:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىروز قیامت ہر کسی کو اپنی بداعمالیوں کا بوجھ ذاتی طور پر خود ہی اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کی کچھ مدد نہیں کرسکے گا۔ سب اپنے اپنے اعمال کا انبار اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًایہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ کسی بھی قوم پر عذاب استیصال اس وقت تک نہیں بھیجا گیا جب تک کہ اس قوم کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل کا فرق واضح کردینے کے لیے کوئی رسول مبعوث نہیں کردیا گیا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس قانون سے مشروط نہیں۔ قرآن میں قوم نوح قوم ہود قوم صالح وغیرہ کی مثالیں بار بار بیان کی گئی ہیں جن سے اس اصول کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی قوم کو عذاب کے ذریعے اس وقت تک مکمل طور پر تباہ و برباد نہیں کیا جاتا جب تک اللہ کا مبعوث کردہ رسول اس قوم کے لیے حق کا حق ہونا بالکل واضح نہ کر دے اور اس سلسلے میں اس قوم پر اتمام حجت نہ ہوجائے۔ یہی مضمون سورة النساء آیت 165 میں اس طرح بیان ہوا ہے : رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ”اس نے بھیجے رسول خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت رسولوں کے بعد۔“