Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ٱنظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ وَلَلْءَاخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَٰتٍۢ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًۭا ﴾
“Behold how We bestow [on earth) more bounty on some of them than on others: but [remember that] the life to come will be far higher in degree and far greater in merit and bounty.”
آیت 21 اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب ذہنی و جسمانی صلاحیتوں شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًادنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں محدود ہی ہوں گے مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع ہوجائے گا ؟ آخرکار تو دونوں کو یہاں سے جانا ہے۔ لیکن آخرت کے آرام و آسائش ابدی ہوں گے۔ وہاں کے نعمتوں کے باغات کی اپنی ہی شان ہوگی : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ ”تو اس کے لیے آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔“