WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًۭا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلْطَٰنًۭا فَلَا يُسْرِف فِّى ٱلْقَتْلِ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورًۭا ﴾

“And do not take any human being's life -[the life] which God has willed to be, sacred-otherwise than in [the pursuit of] justice. Hence, if anyone has been slain wrongfully, We have empowered the defender of his rights [to exact a just retribution]; but even so, let him not exceed the bounds of equity in [retributive] killing. [And as for him who has been slain wrongfully -] behold, he is indeed succoured [by God]!”

📝 التفسير:

آیت 33 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ یہاں ”حق“ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًااسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کردیے جائیں طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًاقاتل کو پکڑنے اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ”سرکار بنام فلاں“ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔