WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 44 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًۭا ﴾

“The seven heavens extol His limitless glory, and the earth, and all that they contain; and there is not a single thing but extols His limitless glory and praise: but you [O men] fail to grasp the manner of their glorifying Him! Verily, He is forbearing, much-forgiving!”

📝 التفسير:

آیت 44 تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ اس کائنات کی ایک ایک چیز چاہے جاندار ہو یا بظاہر بےجان وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہرچیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کر رہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور وہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًاہر چیز کا یہی انداز تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کرسکتے۔ سورة حٰم السجدہ کی آیت 21 میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا ذکر ہے کہ اس نے ہرچیز کو قوت ناطقہ عطا کی ہے۔ روز محشر جب انسانوں کے اپنے اعضاء ان کے خلاف شہادت دیں گے تو وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ یہ سب کیا ہے ؟ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ ”ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا کی ہے جس نے ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔“