WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 57 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًۭا ﴾

“Those [saintly beings] whom they invoke are themselves striving to obtain their Sustainer's favour - [even] those among them who are closest [to Him] - hoping for His grace and dreading His chastisement: for, verily, thy Sustainer's chastisement is something to beware of!”

📝 التفسير:

آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں یا اولیاء اللہ یا فرشتے وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہار بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔