WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 75 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ إِذًۭا لَّأَذَقْنَٰكَ ضِعْفَ ٱلْحَيَوٰةِ وَضِعْفَ ٱلْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًۭا ﴾

“in which case We would indeed have made thee taste double [chastisement] in life and double [chastisement] after death, and thou wouldst have found none to succour thee against Us!”

📝 التفسير:

آیت 75 اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَوَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی ”رب تو آخر رب ہے جتنا بھی تنزل فرما لے اور بندہ بہر حال بندہ ہی ہے جس قدر بھی ترقی پالے !“ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًاآیت کا مضمون بہت نازک ہے۔ بہر حال میں نے الفاظ کے مطابق ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن موقع محل اور سیاق وسباق کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل مفہوم کو دقت نظری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خطاب نبی اکرم سے ہے مگر سختی کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپ کے مقابلے میں ایسے حالات پیدا کر رکھے تھے۔ ان الفاظ میں ان لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کہ بد بختو ! تم جو چاہو کرلو ہمارے نبی تمہارے اس دباؤ میں آکر تمہارے مطالبات ماننے والے نہیں ہیں۔