Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَإِن كَادُوا۟ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًۭا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلًۭا ﴾
“And [since they see that they cannot persuade thee,] they endeavour to estrange thee from the land [of thy birth] with a view to driving thee away from, it-but, then, after thou wilt have left, they themselves will not remain [in it] for more than a little while:”
آیت 76 وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًایہ مکی دور کے آخری ایام کے ان حالات کی جھلک ہے جب اس کش مکش کی شدت انتہا کو پہنچ چکی تھی اور حالات بیحد نازک رخ اختیار کرچکے تھے۔ یہاں پر رسول اللہ کو معاذ اللہ مکہ سے نکالنے کے لیے قریش کی منصوبہ بندی کا صرف ذکر کیا گیا ہے مگر اس کی نفی کرنے کے بجائے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آپ کے بعد وہ خود بھی یہاں پر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کے اکثر سردار تو ہجرت کے دوسرے برس ہی جنگ بدر میں قتل ہوگئے جبکہ صرف آٹھ سال بعد مکہ شہر پر آپ کا باقاعدہ تسلط بھی قائم ہوگیا۔