Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَإِذَآ أَنْعَمْنَا عَلَى ٱلْإِنسَٰنِ أَعْرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسًۭا ﴾
“for [it often happens that] when We bestow Our blessings upon man, he turns away and arrogantly keeps aloof [from any thought of Us]; and when evil fortune touches him, he abandons all hope.”
آیت 82 وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت“۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًاجیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ۔