WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 84 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قُلْ كُلٌّۭ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًۭا ﴾

“Say: "Everyone acts in a manner peculiar to himself -and your Sustainer is fully aware as to who has chosen the best path."”

📝 التفسير:

آیت 84 قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ”شاکلہ“ سے مراد ہر انسان کی شخصیت کا مخصوص سانچہ ہے جیسے آپ کو کسی دھات سے کوئی شے بنانی ہے تو پہلے اس کا ایک سانچہ pattern بناتے ہیں اور اس دھات کو پگھلا کر اس میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دھات وہی مخصوص شکل اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی شخصیت کے مخصوص سانچے کی تشکیل میں انسان کے موروثی genes اور اس کا خارجی ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گویا موروثی عوامل اور ماحولیاتی عوامل کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا جو ہیولیٰ بنتا ہے وہی اس کا شاکلہ ہے۔ کسی شخص نے نیکی اور برائی کے لیے جو بھی محنت اور کوشش کرنی ہے وہ اپنے اس شاکلہ کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ گویا کسی انسان کا شاکلہ اس کے دائرہ عمل کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ وہ نہ تو ان حدود سے تجاوز کرسکتا ہے اور نہ ہی ان سے بڑھ کر عمل کرنے کا وہ مکلف ہے۔ جیسے انگریزی میں کہا جاتا ہے : One cannot grow out of his skin یعنی کسی نے موٹا ہونے کی جتنی بھی کوشش کرنی ہے اپنی کھال کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ وہ اپنی کھال سے باہر بہر حال نہیں نکل سکتا۔ چناچہ ہر شخص اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے اور اللہ کو خوب علم ہے کہ اس نے کس کو کس طرح کا شاکلہ دے رکھا ہے۔ اور وہ ہر شخص سے اس کے شاکلہ کی مناسبت سے ہی حساب لے گا۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو بیان القرآن ‘ جلد اول ‘ سورة البقرۃ تشریح آیت 286۔ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًااس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ نے فرمایا : اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کہ انسان معدنیات کی طرح ہیں۔ معدنیات میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خصوصیات properties ہوتی ہیں۔ سونے کی ore چاندی کی ore سے بالکل مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ اسی طرح ہر انسان کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خصوصیات سے خوب واقف ہے۔