WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 210 من سورة سُورَةُ البَقَرَةِ

Al-Baqara • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ ﴾

“Are these people waiting, perchance, for God to reveal Himself unto them in the shadows of the clouds, together with the angels - although [by then] all will have been decided, and unto God all things will have been brought back?”

📝 التفسير:

آیت 210 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آجانے کے بعد بھی کج روی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواج قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے ؟انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے ‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے ‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہوجائیں ‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں ‘ بچے برسر روزگار ہوجائیں ‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہوجائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں ‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کرلوں گا۔ یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔ کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے ! یہ مہلت عمر تو اچانک ختم ہوسکتی ہے۔ پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 25جو مرگیا تو اس کی قیامت تو آگئی !تو کیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کرلو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کرسکو ؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہوسکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہوجائے۔