WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 125 من سورة سُورَةُ طه

Taa-Haa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًۭا ﴾

“[And so, on Resurrection Day, the sinner] will ask: "O my Sustainer! Why hast Thou raised me up blind, whereas [on earth] I was endowed with sight?"”

📝 التفسير:

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ”ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔