WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 66 من سورة سُورَةُ طه

Taa-Haa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ بَلْ أَلْقُوا۟ ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ ﴾

“He answered: "Nay, you throw [first]." And lo! by virtue of their sorcery, their [magic] ropes and staffs seemed to him to be moving rapidly:”

📝 التفسير:

آیت 66 قَالَ بَلْ اَلْقُوْاج ”تو یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کو پہل کرنے کی دعوت دے دی۔ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی ”حِبال جمع ہے حبل رسی کی اور عِصِیّ جمع ہے عصا لاٹھی کی۔ یعنی جادوگروں نے میدان میں رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں جو ان کے جادو کے اثر سے دیکھنے والوں کو سانپوں کی طرح بھاگتی دوڑتی نظر آنے لگیں۔