WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 97 من سورة سُورَةُ طه

Taa-Haa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ فَٱذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًۭا لَّن تُخْلَفَهُۥ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًۭا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِى ٱلْيَمِّ نَسْفًا ﴾

“Said [Moses]; "Begone, then! And, behold, it shall be thy lot to say throughout [thy] life, `Touch me not! But, verily, [in the life to come] thou shalt be faced with a destiny from which there will be no escape! And [now] look at this deity of thine to whose worship thou hast become so devoted: we shall most certainly burn it, and then scatter [whatever remains of] it far and wide over the sea!”

📝 التفسير:

آیت 97 قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَص ”سامری بطور سزا جس بیماری میں مبتلا کیا گیا تھا اس کی تفصیل تو نہیں ملتی مگر ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عملاً وہ اچھوت بن کر رہ گیا تھا۔ نہ وہ کسی کے قریب جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص اس کے پاس آسکتا تھا۔ بعض روایات میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں سخت بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے اور یوں باقی تمام زندگی اسے معاشرتی مقاطعہ کی سزا بھگتنا پڑی۔