Al-Hajj • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ﴾
“On that Day, all dominion shall [visibly] belong to God, He shall judge [all men and make a distinction] between them: thus, all who had attained to faith and did righteous deeds shall find themselves in gardens of bliss,”
آیت 56 اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِط یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ ط ”کائنات کا حاکم حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ‘ ہر وقت اسی کا حکم چل رہا ہے ‘ لیکن آج اس حقیقت پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں۔ چناچہ دنیا میں ہمیں ڈرامے کے کرداروں کی طرح چھوٹے چھوٹے بادشاہ ‘ فرمانروا ‘ سردار وغیرہ بھی مقتدر اور با اختیار نظر آتے ہیں ‘ لیکن جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب پردے اٹھ جائیں گے۔ اس دن تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے پوچھا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط المؤمن : 16 ”آج کے دن بادشاہی کس کی ہے ؟“ اور پھر خود ہی جواب دیا جائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ”صرف اس اللہ کی جو واحد ہے ‘ قہار ہے !“