Al-Muminoon • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ عَنِ ٱلصِّرَٰطِ لَنَٰكِبُونَ ﴾
“but, behold, those who will not believe in the life to come are bound to deviate from that way.”
آیت 72 اَمْ تَسْءََلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌق وَّہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ”دراصل یہاں ان الفاظ میں خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ مشرکین مکہّ سے ہے کہ عقل کے اندھو ‘ ذرا سوچو تو ! تمہارے شاعر اور قصہ گو تو تم لوگوں سے اجر و انعام چاہتے ہیں۔ مگر تم نے محمد ﷺ کی زبان سے کبھی ایسی کوئی بات سنی ہے ؟ کبھی آپ ﷺ نے اپنی اس خدمت کے عوض تم سے کوئی اجرت طلب کی ہے ؟ ان کو تو ان کے رب کی طرف سے جو اجر و انعام ملنے والا ہے وہ پوری دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔