An-Noor • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا۟ مِنْ أَبْصَٰرِهِمْ وَيَحْفَظُوا۟ فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴾
“Tell the believing men to lower their gaze and to be mindful of their chastity: this will be most conducive to their purity – [and,] verily, God is aware of all that they do.”
آیت 29 لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ط ”اس سے مراد دکانیں ‘ سٹور اور گودام وغیرہ ہیں۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ”قانون کی اصل روح کو سمجھنا اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دراصل گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے منع کرنے کا مقصد گھر میں سکونت پذیر خاندان کی privacy کے تقدس کو یقینی بنانا ہے۔ لہٰذا کسی دکان یا گودام پر اس قانون کے اطلاق کا کوئی جواز نہیں ہے کہ آدمی دکان کے دروازے پر اس لیے کھڑا رہے کہ جب تک مالک مجھے اجازت نہیں دے گا میں اندر نہیں جاؤں گا۔