Al-Furqaan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ ٱلرَّحْمَٰنُ فَسْـَٔلْ بِهِۦ خَبِيرًۭا ﴾
“He who has created the heavens and the earth and all that is between them in six aeons, and is established on the throne of His almightiness: the Most Gracious! Ask, then, about Him, [the] One who is [truly] aware.”
اَلرَّحْمٰنُ فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا ”اللہ تعالیٰ کی صفات اور شان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو کسی صاحب علم سے پوچھو ! جب کبھی انسان اپنے متعلق سوچتا ہے یا اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ‘ اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے خالق کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ‘ اس تک رسائی چاہتا ہے ‘ اسے پانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تجسسّ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ انسانی فطرت کی اسی آواز کو کسی شاعر نے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے : مجھ کو ہے تیری جستجو ‘ مجھ کو تری تلاش ہے خالق مرے کہاں ہے تو ؟ مجھ کو تری تلاش ہے !انسانی فطرت کی اسی جستجو اور اسی تلاش کی راہنمائی کے لیے فرمایا گیا کہ اس کے بارے میں ایسے لوگوں سے پوچھو جو اس سے آشنائی رکھتے ہوں ‘ اسے پانے کے لیے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی اس کے ساتھ دوستی ہو : وَکُوْنُوْا مَعَ الصّدِقین۔ التوبۃ کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے ہی تمہیں اللہ کی معرفت حاصل ہوگی۔