https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 117 من سورة سُورَةُ الشُّعَرَاءِ

Ash-Shu'araa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ ﴾

“[Whereupon] he prayed: “O my Sustainer! Behold, my people have given me the lie:”

📝 التفسير:

آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔