https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 209 من سورة سُورَةُ الشُّعَرَاءِ

Ash-Shu'araa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ﴾

“and reminded: for, never do We wrong [anyone].”

📝 التفسير:

آیت 209 ذِکْرٰیقف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ”گویا اس سلسلے میں یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ یعنی کسی قوم پر اس وقت تک کبھی عذاب استیصال نہیں آیا جب تک انہیں خبردار کرنے کے لیے کوئی رسول علیہ السلام مبعوث نہیں کردیا گیا۔ لیکن رسول علیہ السلام کے اتمام حجت کرنے کے بعد بھی اگر متعلقہ قوم ایمان نہ لائی تو پھر ایسا عذاب آیا کہ صفحہ ہستی سے اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط الانعام : 45 ”پھر ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔“