WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 32 من سورة سُورَةُ النَّمۡلِ

An-Naml • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قَالَتْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ﴾

“She added: “O you nobles! Give me your opinion on the problem with which I am now faced; I would never make a [weighty] decision unless you are present with me.””

📝 التفسير:

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔