WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 45 من سورة سُورَةُ النَّمۡلِ

An-Naml • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ﴾

“AND [likewise], indeed, We sent unto [the tribe of] Thamud their brother Salih [with this message]: “Worship God alone!” and, behold, they were [split into] two factions contending with one another.”

📝 التفسير:

قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔