WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 139 من سورة سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Aal-i-Imraan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾

“Be not, then, faint of heart, and grieve not: for you are bound to rise high if you are [truly] believers.”

📝 التفسير:

آیت 139 وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ ہے کہ تم ہی غالب و سربلند ہو گے ‘ آخری فتح تمہاری ہوگی ‘ بشرطیکہ تم مؤمن ہوئے۔ یہ آیت ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ آج دنیا میں جو ہم ذلیل ہیں ‘ غالب و سربلند نہیں ہیں ‘ تو نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ یہ کہ ہمارے اندر ایمان نہیں ہے ‘ ہم حقیقی ایمان سے محروم ہیں۔ ہم جس ایمان کے مدعی ہیں وہ محض ایک موروثی عقیدہ ہے ‘ یقین قلبی اور conviction والا ایمان نہیں ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ امت کے اندر حقیقی ایمان موجود ہو اور پھر بھی وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہو۔