WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 153 من سورة سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Aal-i-Imraan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ ۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّۢ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴾

“[Remember the time] when you fled, paying no heed to anyone, while at your rear the Apostle was calling out to you - wherefore He requited you with woe in return for [the Apostle's] woe, so that you should not grieve [merely] over what had escaped you, nor over what had befallen you: for God is aware of all that you do.”

📝 التفسير:

آیت 153 اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلاَ تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْ اُخْرٰٹکُمْ غزوۂ احد میں خالد بن ولید کے اچانک حملے سے ایک بھگدڑ سی مچ گئی تھی۔ بعض صحابہ رض نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا تھا اور انہوں نے اپنے جسموں کو ڈھال بن کر آنحضور ﷺ کی حفاظت کی۔ بہت سے لوگ سراسیمہ ہو کر اپنی جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعض کوہ احد پر چڑھے جا رہے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ انہیں پکار پکار کر واپس بلا رہے تھے۔ فَاَثَابَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ مَآ اَصَابَکُمْ ط یعنی ع رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج ! آدمی کو اگر کبھی اتفاقاً ہی رنج و غم کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے ‘ لیکن جب پے در پے رنج و غم اٹھانے پڑیں تو ان کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ دامن احد میں مسلمانوں کو پے در پے تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ سب سے بڑا رنج جو پیش آیا وہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر تھی ‘ جس پر کسی کو اپنے تن بدن کا تو ہوش ہی نہیں رہا کہ خود اس کو کیا زخم لگا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی کیفیت میں ایک تخفیف پیدا کردی۔