Aal-i-Imraan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍۢ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًۭا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًۭا ۖ قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴾
“And thereupon her Sustainer accepted the girl-child with goodly acceptance, and caused her to grow up in goodly growth, and placed her in the care of Zachariah. Whenever Zachariah visited her in the sanctuary, he found her provided with food. He would ask: "O Mary, whence came this unto thee?" She would answer: "It is from God; behold, God grants sustenance unto whom He wills, beyond all reckoning."”
آیت 37 فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ شرف قبول عطا فرمایا بڑے ہی خوبصورت انداز میں۔ وَّاَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًالا وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ط حضرت زکریا علیہ السلام ان کے سرپرست مقرر ہوئے اور انہوں نے حضرت مریم علیہ السلام کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ وہ حضرت مریم علیہ السلام کے خالو تھے۔ آپ علیہ السلام وقت کے نبی تھے اور اسرائیلی اصطلاح میں ہیکل سلیمانی کے کاہن اعظم Chief Priest بھی تھے۔ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَلا وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا ج محراب سے مراد وہ گوشہ یا حجرہُ ہے جو حضرت مریم علیہ السلام کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا۔ حضرت زکریا علیہ السلام ان کی دیکھ بھال کے لیے اکثر ان کے حجرے میں جاتے تھے۔ آپ علیہ السلام جب بھی حجرے میں جاتے تو دیکھتے کہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس کھانے پینے کی چیزیں اور بغیر موسم کے پھل موجود ہوتے۔ بعض لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ یہاں رزق سے مراد مادی کھانا نہیں ‘ بلکہ علم و حکمت ہے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام ان سے بات کرتے تھے تو حیران رہ جاتے تھے کہ اس لڑکی کو اس قدر حکمت اور اتنی معرفت کہاں سے حاصل ہوگئی ہے ؟قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ط یہ انواع و اقسام کے کھانے اور بےموسمی پھل تمہارے پاس کہاں سے آجاتے ہیں ؟ یا یہ علم و حکمت اور معرفت کی باتیں تمہیں کہاں سے معلوم ہوتی ہیں ؟قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط۔یہ سب اس کا فضل اور اس کا کرم ہے۔