WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 20 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ ۖ وَإِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِى ٱلْأَعْرَابِ يَسْـَٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا۟ فِيكُم مَّا قَٰتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا ﴾

“They think that the Confederates have not [really] withdrawn; and should the Confederates return, these [hypocrites] would prefer to be in the desert, among the bedouin, asking for news about you, [O believers, from far away;] and even were they to find themselves in your midst, they would but make a pretence at fighting [by your side].”

📝 التفسير:

آیت 20 { یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْہَبُوْا } ”وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔“ اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آجائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔ { وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْبَـــآئِکُمْ } ”اور اگر لشکر دوبارہ حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ ّبدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے اور وہیں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔“ ایسی صورت میں یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر ریگستان میں چلے گئے ہوتے ‘ وہاں اہل بدو کے درمیان محفوظ جگہ پر پناہ لیے ہوئے مدینہ کی خبریں پوچھتے رہتے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ { وَلَـوْ کَانُوْا فِیْکُمْ مَّا قٰــتَلُوْٓا اِلَّا قَلِیْلًا } ”اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔“ اگر وہ لوگ تمہارے درمیان موجود بھی ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے جنگ سے جان چھڑا ہی لیتے اور کبھی کبھار محض دکھانے کے لیے کسی مہم میں با دل نخواستہ برائے نام حصہ لے لیتے۔