WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًۭا ﴾

“And abide quietly in your homes, and do not flaunt your charms as they used to flaunt them in the old days of pagan ignorance; and be constant in prayer, and render the purifying dues, and pay heed unto God and His Apostle: for God only wants to remove from you all that might be loathsome, O you members of the [Prophet’s] household, and to purify you to utmost purity.”

📝 التفسير:

آیت 33 { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } ”اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو“ ایک مخلوط معاشرے کو اسلامی معاشرے میں بدلنے کے سلسلے میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ عورت کا اصل اور مستقل مقام اس کا گھر ہے۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ گھر کے اندر رہ کر ماں ‘ بہن ‘ بیٹی یا بیوی کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے۔ { وَلَا تَـبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی } ”اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح“ تبرّج کے معنی ہیں نمایاں ہونا اور نمائش کرنا۔ یہاں اس سے عورتوں کا بنائو سنگھار کر کے غیر َمردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کا عمل مراد ہے۔ اس عمل کا مقصد عورت کی اس خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور وہ ان کی توجہات کا مرکز بنے۔ عربوں کے ہاں تو اپنے تمدن اور طرزمعاشرت پر بڑھ چڑھ کر فخر کیا جاتا تھا اور وہ فرعون کی طرح اسے ”مثالی کلچر“ { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیتے ہوں گے ‘ لیکن قرآن نے ان طور طریقوں کو ”جاہلیت“ کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں اور بن ٹھن کر باہر نکلنے کے طور طریقے ترک کردیں۔ { وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔“ { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا } ”اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔“ اے نبی ﷺ کی بیویو ! جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی مثالی شخصیت میں امت کے لیے اسوہ ہے ‘ اسی طرح تمہاری شخصیات کو بھی پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا ہے۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پاک اور صاف کر کے تہذیب ِنفس ‘ تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ یہاں پر اَہْلَ الْبَیْتِ کے خطاب کی مخاطب بلاشبہ ازواجِ مطہرات رض ہیں ‘ کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں سارا خطاب انہی سے ہے۔ اس سے پہلے سورة ہود کی آیت 73 میں بھی یہ لفظ اہل البیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترم حضرت سارہ علیہ السلام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جب فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تو انہوں نے حضرت سارہ علیہ السلام کو مخاطب کر کے یوں کہا : { رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ } ”اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی علیہ السلام کے گھر والو !“ چناچہ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ”اہل بیت“ سے اصلاً ازواجِ مطہرات رض مراد ہیں۔ البتہ حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی اور حضرات حسنین رض کے بارے میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رض سے مروی حضور ﷺ کا یہ فرمان : اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَائِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا 1 گویا ان شخصیات کو بھی اہل بیت کے دائرے میں شامل کرنے سے متعلق ہے کہ اے اللہ ! یہ لوگ بھی میرے اہل ِبیت ہیں ‘ چناچہ ان سے بھی گندگی دور کر دے اور انہیں پاک کر دے۔