Al-Ahzaab • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٰجَكَ ٱلَّٰتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ وَٱمْرَأَةًۭ مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةًۭ لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىٓ أَزْوَٰجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌۭ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ﴾
“O PROPHET! Behold, We have made lawful to thee thy wives unto whom thou hast paid their dowers, as well as those whom thy right hand has come to possess from among the captives of war whom God has bestowed upon thee. And [We have made lawful to thee] the daughters of thy paternal uncles and aunts, and the daughters of thy maternal uncles and aunts, who have migrated with thee [to Yathrib]; and any believing woman who offers herself freely to the Prophet and whom the Prophet might be willing to wed: [this latter being but] a privilege for thee, and not for other believers - [seeing that] We have already made known what We have enjoined upon them with regard to their wives and those whom their right hands may possess. [And] in order that thou be not burdened with [undue] anxiety - for God is indeed much-forgiving, a dispenser of grace –”
آیت 50 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں“ { وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ } ”اور ان کو بھی جو آپ ﷺ کی ملک یمین باندیاں ہیں ‘ ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور ’ فے ‘ عطا کیں“ جیسے مصر کے فرمانروا مقوقس نے حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کو آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ { وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ } ”اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے ‘ اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے“ { الّٰتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ } ”جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔“ { وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ } ”اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے“ { اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا } ”اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔“ یعنی وہ مسلمان خاتون جو مہر کا تقاضا کیے بغیر خود کو آپ ﷺ کی زوجیت کے لیے پیش کرے اور آپ ﷺ اسے قبول فرمائیں۔ { خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یہ رعایت خالص آپ ﷺ کے لیے ہے ‘ مومنین سے علیحدہ۔“ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ کو عام قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ } ”ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان عام مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے“ ایک عام مسلمان ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح باندیوں کے بارے میں بھی ان پر طے شدہ قواعد و ضوابط کی پابندی لازم ہے۔ { لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اس موضوع کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ حضور ﷺ کے متعدد نکاح کرنے میں بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کا عمل دخل تھا۔ مثلاً حضرت عائشہ رض اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہوگئیں اور اس کے بعد آپ رض ایک طویل مدت تک خواتین اُِمت کے لیے ایک معلمہ کا کردار ادا کرتی رہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بہت سے ایسے نکاح بھی کیے جن کی وجہ سے متعلقہ قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئے اور اس طرح اسلامی حکومت اور ریاست کو تقویت ملی۔ یہ مصلحتیں اس بات کی متقاضی تھیں کہ حضور ﷺ کے لیے نکاح کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رکھی جائے ‘ تاکہ جو عظیم کام آپ ﷺ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی ضروریات کے لحاظ سے آپ جتنے نکاح کرنا چاہیں کرلیں۔