WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ﴾

“And, before Him, intercession can be of no avail [to any] save one in whose case He may have granted leave [there for]: so much so that when the terror [of the Last Hour] is lifted from their hearts, they [who have been resurrected] will ask [one an­other], “What has your Sustainer decreed [for you]?” - [to which] the others will answer, “Whatever is true and deserved - for He alone is exalted, great!””

📝 التفسير:

آیت 23 { وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ } ”اور نہ نفع دے گی اس کے ہاں کوئی سفارش مگر اسی کے حق میں جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔“ { حَتّٰٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ } ”یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے ان کے دلوں سے“ یہ فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو کوئی حکم بھیجتا ہے تو اس کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان پر دہشت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان سے اس دہشت کا اثر زائل کردیا جاتا ہے تو : { قَالُوْا مَاذَالا قَالَ رَبُّکُمْ } ”وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایا تھا ؟“ { قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ } ”وہ کہتے ہیں کہ اُس نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے ‘ اور وہ بہت بلند وبالا ‘ بہت بڑا ہے۔“