As-Saaffaat • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةًۭ مِّن يَقْطِينٍۢ ﴾
“and caused a creeping plant to grow over him [out of the barren soil].”
آیت 146{ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ } ”تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔“ عربی میں ”یقطین“ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا ‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے ‘ جیسے کدو ‘ تربوز ‘ ککڑی وغیرہ۔ ”یقطین“ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق فروری 1980 ء میں شائع ہوئی تھی۔٭ موصوف کا تعلق کراچی سے تھا ‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘ بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طور پر ساحل ِعراق سے مشابہ ہے۔ وہاں پر انہوں نے ایک بیل نما پودا دیکھا جسے مقامی زبان میں ”اَگین“ کہا جاتا ہے۔ اس پودے کے پتے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ اس پر گول کدو ّکی شکل کا پھل لگتا ہے جو جسامت میں تربوز کے برابر اور مزے میں ککڑی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور پانی کا جزو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بیل زمین پر دور دور تک پھیلی ہوتی ہے جس کے اندر بیک وقت دوچار آدمی اپنے آپ کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔ پتے نہایت چکنے اور ملائم ہوتے ہیں جو نیچے نرم و نازک گدوں اور اوپر اوڑھنے کے لیے ریشمی چادر کا کام دیتے ہیں۔ تری اور خنکی اتنی ہوتی ہے کہ آفتاب کی کرنیں اندر چھپے ہوئے انسان کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔ اس کے پتوں میں قدرتی طور پر کوئی اینٹی بیکٹیریا مادہ بھی پایا جاتا ہے ‘ جس کی وجہ سے حشرات الارض حتیٰ کہ سانپ اور بچھو بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کا خیال تھا کہ یہ وہی پودا ہے جس کا ذکر قرآن میں ”یقطین“ کے نام سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اہل مکران کی زبان مسخ شدہ فارسی ہے ‘ لیکن اس میں دوسری زبانوں بالخصوص عربی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ چناچہ لسانی اور صوتی اعتبار سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یقطین کی ”ق“ مقامی زبان کی ”گ“ سے بدل گئی ہو جیسے سعودی عرب میں بھی آج کل عوام ”قُمْ“ کو ”گُم“ ہی بولتے ہیں ‘ ”ی“ الف سے بدل گئی ہو اور ”ط“ کثرتِ استعمال سے حذف ہوگیا ہو۔ اس طرح ہوتے ہوتے اس لفظ نے ”اَگین“ کی صورت اختیار کرلی ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس بیل کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کے لیے anti septic ماحول ‘ سایہ ‘ غذائیت اور مٹھاس سے بھر پور پھل کی صورت میں تینوں بنیادی ضرورتیں پوری کردیں۔