WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 75 من سورة سُورَةُ الصَّافَّاتِ

As-Saaffaat • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌۭ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ ﴾

“And, indeed, [it was for this reason that] Noah cried unto Us - and how excellent was Our response:”

📝 التفسير:

آیت 75{ وَلَقَدْ نَادٰٹنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ } ”اور ہمیں پکارا تھا نوح علیہ السلام نے ‘ تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں !“ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر سورة القمر میں ان الفاظ میں ہوا ہے : { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } یعنی اس نے ربّ سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ انہوں نے مجھے دبا لیا ہے ‘ اب ُ تو ہی میری مدد فرما اور تو ہی ان سے میرا بدلہ لے ! چناچہ اللہ کی مدد آگئی۔