Az-Zumar • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قُلْ يَٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌۭ ۗ وَأَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّٰبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍۢ ﴾
“Say: “[Thus speaks God:] ‘O you servants of Mine who have attained to faith! Be conscious of your Sustainer! Ultimate good awaits those who persevere in doing good in this world. And [remember:] wide is God’s earth, [and,] verily, they who are patient in adversity will be given their reward in full, beyond all reckoning!’””
آیت 10 { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔“ تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں اہل ایمان سے براہ راست خطاب کرنے کے بجائے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ میری طرف سے میرے اہل ایمان بندوں کو یہ پیغام پہنچا دیں : { لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ} ”جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ‘ ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔“ { وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ} ”اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔“ اگر مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے لیے توحید پر کاربند رہنا ممکن نہیں رہا تو یہاں سے ہجرت کر جائو۔ { اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے۔“ اجر کے حوالے سے یہاں پر یُوَفَّی کا اصول بھی بتایا گیا ہے اور بِغَیْرِ حِسَابٍ کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ یعنی پورا پورا بدلہ دینے کے بعد اللہ کا مزید فضل بھی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے معاملے میں حساب کا کوئی سوال ہی نہیں !