Az-Zumar • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعًۭا ۖ لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾
“Say: “God’s alone is [the power to bestow the right of] intercession: His [alone] is the dominion over the heavens and the earth; and, in the end, Unto Him you will all be brought back.””
آیت 44 { قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا } ”آپ ﷺ کہیے کہ شفاعت ُ کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے۔“ قیامت کے دن جو کوئی بھی کسی کی شفاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اجازت سے ہی کرے گا ‘ اور پھر کسی شفاعت کا قبول کرنا یا نہ کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بات اللہ سے منوا لے۔ { لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔“