https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 151 من سورة سُورَةُ النِّسَاءِ

An-Nisaa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا ﴾

“it is they, they who are truly denying the truth: and for those who deny the truth We have readied shameful suffering.”

📝 التفسير:

آیت 150 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ اکبر کے دین الٰہیکا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ بس دین تو اللہ ہی کا ہے ‘ رسول ﷺ کی نسبت ضروری نہیں ‘ کیونکہ جب دین کی نسبت رسول کے ساتھ ہوجاتی ہے تو پھر دین رسول کے ساتھ منسوب ہوجاتا ہے کہ یہ دین موسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین عیسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین محمد ﷺ ہے۔ اگر رسولوں کا یہ تفرقی عنصر differentiating factor درمیان سے نکال دیا جائے تو مذاہب کے اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اللہ تو سب کا مشترک common ہے ‘ چناچہ جو دین اسی کے ساتھ منسوب ہوگا وہ دین الٰہی ہوگا۔وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا یعنی اللہ کو مانیں گے ‘ رسولوں کا ماننا ضروری نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب کو مانیں گے ‘ رسول ﷺ کی سنت کا ماننا کوئی ضروری نہیں ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً اللہ کو ایک طرف کردیں اور رسول کو ایک طرف۔