https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 164 من سورة سُورَةُ النِّسَاءِ

An-Nisaa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا ﴾

“and as [We inspired other] apostles whom We have mentioned to thee ere this, as well as apostles whom We have not mentioned to thee; and as God spoke His word unto Moses:”

📝 التفسير:

آیت 164 وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط پوری دنیا کی تاریخ بیان کرنا تو قرآن مجید کا مقصد نہیں ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کی مکمل فہرست دے دی جاتی۔ یہ تو کتاب ہدایت ہے ‘ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا یہ خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امتیازی شان بیان ہوئی ہے۔ لیکن یہ مکالمہ مِنْ وَرَآ ءِ حِجَابٍ تھا ‘ یعنی پردے کے پیچھے سے ‘ البتہ تھا دُوُ بدو کلام۔ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جس میں نبوت کا اساسی مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ تمام رسول علیہ السلام کس لیے بھیجے گئے تھے۔