Ghafir • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ۞ أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا۟ هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةًۭ وَءَاثَارًۭا فِى ٱلْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍۢ ﴾
“Have they, then, never journeyed about the earth and beheld what happened in the end to those [deniers of the truth] who lived before their time? Greater were they in power than they are, and in the impact which they left on earth: but God took them to task for their sins, and they had none to defend them against God:”
آیت 21 { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“ { کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی ‘ ‘ انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثار قدیمہ کہتے ہیں۔ { فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ } ”تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔“ { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ } ”اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔“