WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 83 من سورة سُورَةُ غَافِرٍ

Ghafir • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرِحُوا۟ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴾

“for when their apostles came to them with all evidence of the truth, they arrogantly exulted in whatever knowledge they [already] possessed: and [so, in the end,] they were overwhelmed by the very thing which they were wont to deride.”

📝 التفسير:

آیت 83 { فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”تو جب آگئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر“ الْبَیِّنٰتِسے مراد حسی معجزات بھی ہیں اور واضح تعلیمات اور دلائل بھی۔ { فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ } ”تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ان کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔“ وہ لوگ اپنے آبائی عقائد و توہمات پر جمے رہے اور انہی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے رہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس حق کا بھی مذاق اڑایا جو ان کے رسولوں علیہ السلام نے ان کے سامنے پیش کیا اور عذاب کی وعیدوں کا بھی جس سے انہیں خبردار کیا گیا۔ بالآخر انہیں اپنے کرتوتوں کی سزامل کر رہی۔